کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 47
نے اپنی سنت سے انحراف قرار دیا ہے، جیسے حدیث میں تین افراد کا واقعہ صحیح سند کے ساتھ موجود ہے کہ انھوں نے اپنے اپنے طور پر یہ خیال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اللہ تعالیٰ نے بہت بلند مرتبہ عطا فرمایا ہے اور آپ کے اگلے پچھلے گناہوں کو بھی معاف فرما دیا ہے، اس لیے ہمیں تو آپ سے زیادہ اللہ کی عبادت کرنے کی ضرورت ہے، چنانچہ ان میں سے ایک نے عہد کیا کہ میں تو ساری عمر ساری رات نماز پڑھتے ہوئے گزارا کروں گا۔ دوسرے نے کہا: میں ہمیشہ دن کو روزہ رکھا کروں گا اور کبھی ناغہ نہیں کروں گا۔ تیسرے نے کہا: میں عورتوں سے بالکل کنارہ کش رہوں گا اور کبھی بھی نکاح نہیں کروں گا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں ان کی باتیں آئیں تو آپ نے انھیں بلا کر پوچھا: تم نے اس اس طرح باتیں کی ہیں؟ پھر فرمایا: ’أَمَا وَاللّٰہِ! إِنِّي لأََخْشَاکُمْ لِلّٰہِ وَأَتْقَاکُمْ لَہٗ، لٰکِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَائَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَیْسَ مِنِّي‘ ’’خبردار! اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ متقی ہوں، اس کے باوجود (میں مسلسل روزے نہیں رکھتا بلکہ کبھی) روزہ رکھ لیتا ہوں اور (کبھی) چھوڑ دیتا ہوں اور (اسی طرح میں ساری رات نماز پڑھتے ہوئے نہیں گزارتا بلکہ) میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اورمیں نے عورتوں سے شادیاں بھی کی ہوئی ہیں (پس یہ سارے ہی کام میری سنت ہیں) جس نے میری (کسی ایک) سنت سے اعراض کیا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘[1] [1] صحیح البخاري، النکاح، باب الترغیب في النکاح، حدیث: 5063۔