کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 45
رسول نے بتلایا یا عمل کر کے دکھلایا۔ اور ایسا شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان اور آپ کے اسوئہ حسنہ ہی کو نجات کے لیے بجا طور پر کافی سمجھتا ہے۔ اور سنت، یعنی آپ کے اسوئہ حسنہ سے انکار ہی بدعت سازی کی بنیاد ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’کُلُّ أُمَّتِي یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ إِلَّا مَنْ أَبٰی‘، قَالُوا: یَارَسُولَ اللّٰہِ! وَمَنْ یَّأْبٰی؟ قَالَ: ’مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّۃَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبٰی‘ ’’میری امت ساری کی ساری جنت میں جائے گی سوائے اس شخص کے جس نے انکار کیا۔‘‘ صحابہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! انکار کون کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میں جائے گا اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے یقینا (جنت میں جانے سے) انکار کر دیا۔‘‘[1] اس سے معلوم ہوا کہ جنت میں جانے کے لیے اطاعتِ رسول ضروری ہے اور اطاعتِ رسول سے گریز جنت سے محرومی کا سبب ہے۔ اس حوالے سے بھی امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثریت کا حال دیکھ لیا جائے تو حدیثِ افتراق امت میں کی گئی پیش گوئی کی صداقت واضح ہو جاتی ہے۔ اطاعتِ رسول سے گریز کی دو صورتیں ہیں اور دونوں ہی عام ہیں: ٭ پہلی صورت ہے کہ اخلاق و کردار، سیاست و معاشرت، معاملاتِ بیع و شراء، شکل و صورت اور معاشرتی تقریبات میں اطاعت رسول اور اسلامی تعلیمات کا اہتمام نہ کیاجائے، ان کی پابندی سے گریز کیا جائے اور اپنی من مانی کی جائے۔ یہ صورت کتنی عام ہے؟ اس کا اندازہ ہر شخص آسانی سے لگا سکتا ہے، جیسے ایک شاعر نے کہا ہے: [1] صحیح البخاري، الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب الاقتداء بسنن رسول اللّٰہ صلي اللّٰه عليه وسلم ، حدیث: 7280۔