کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 44
اہتمام، نہایت شوق اور پابندی سے کرتے ہیں، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان گرامی ہے: ’مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا ھٰذَا مَالَیْسَ فِیہِ فَھُوَرَدٌّ‘ ’’جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز نکالی جو اس میں نہیں ہے، وہ مردود ہے۔‘‘[1] اپنے خطبے میں آپ ارشاد فرمایا کرتے تھے: ’فَإِنَّ خَیْرَ الْحَدِیثِ کِتَابُ اللّٰہِ، وَخَیْرَ الْھَدْيِ ھَدْيُ مُحَمَّدٍ وَشَرَّالأُْمُورِ مُحْدَثَاتُھَا وَکُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ وَکُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ‘ ’’بے شک بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین راستہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا راستہ ہے اور بدترین کام (دین میں) نو ایجاد ہیں اور ہر نو ایجاد کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘[2] اور سنن نسائی میں صحیح سند سے یہ اضافہ ہے: ’وَکُلَّ ضَلَالَۃٍ فِي النَّارِ‘ ’’اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔‘‘[3] (2)سنت سے انحراف جنت سے محرومی کا سبب ہے بدعت کی ایجاد اور اس پر عمل سنت رسول سے انحراف ہے۔ اطاعتِ رسول کا اہتمام کرنے والا بدعت ایجاد نہیں کرتا کیونکہ اس کے نزدیک دین وہی ہے جو اللہ کے [1] صحیح البخاري،الصلح، باب إذا اصطلحوا علٰی صلح جورٍ…، حدیث: 2697، وصحیح مسلم، الأقضیۃ، باب نقض الأحکام الباطلۃ …، حدیث: 1718۔ [2] صحیح مسلم، الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ، حدیث: 867، وسنن النسائي، صلاۃ العیدین، باب کیف الخطبۃ، حدیث: 1579۔ [3] سنن النسائي، صلاۃ العیدین، باب کیف الخطبۃ، حدیث : 1579۔