کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 396
نص میں اپنی طرف سے اضافے کر لیے اور انھوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح نص کے ذریعے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلافت کا عہد دیا تھا۔ اس طرح کہ آپ نے ان کے لیے سپیشل مسند بچھائی اور انھیں اعلیٰ قسم کی مسند پر بٹھایا، اضافہ کرنے والوں نے اس میں ایسی باتیں اور اعمال ذکر کیے ہیں کہ جن کا ہونا قطعاً ثابت نہیں ہے۔ اور انھوں نے یہ بھی گمان کر لیا کہ صحابہ اس نص کو چھپانے پر متفق ہو گئے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی کا حق غصب کر لیا۔ اس طرح چند صحابہ کے علاوہ انھوں نے سب صحابہ کو کافرو فاسق قرار دے دیا۔ حالانکہ بنی آدم کی فطرت کے لحاظ سے اور پھر صحابۂ کرام کی دیانت و امانت کے لحاظ سے اور شریعت نے جس حق بیانی کو ان پر واجب کیا تھا، اس سے یقینی طور پر یہ پتا چلتا ہے کہ اس طرح کی نصوص کو چھپانا (جو کھلے عام بیان ہوئے ہوں) ناممکن ہے۔ لیکن یہاں مسئلہ امامت کے اثبات یا نفی کا نہیں، یہاں مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ اس دن کو عید بنا لینا بالکل بدعت ہے جس کی کوئی اصل دین میں موجود نہیں ہے اور پھر اس میں کیے جانے والے اعمال بھی بدعات ہیں۔ جبکہ عیدیں تو شرعی احکام میں سے ہیں جن میں بدعات کی بجائے اتباع سنت واجب اور ضروری ہے۔ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نو مختلف دنوں میں کئی خطاب، عہدوپیمان اور واقعات موجود ہیں، جیسے بدر، حنین، خندق، فتح مکہ، ہجرت اور مدینہ میں داخلے کے وقت کے خطبات ہیں جن میں دین کے بنیادی اصول بیان کیے گئے ہیں لیکن ان دنوں میں عید منانا جائز نہیں ہے اور ایسے کام تو یہود و نصاریٰ کرتے ہیں جو حوادث و واقعات پر خوشی یا غمی منایا کرتے ہیں مسلمانوں کا تو یہ شیوہ ہی نہیں۔[1] [1] البدع الحولیۃ، ص: 380-377۔