کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 394
عید ’’غدیر خم‘‘ معز الدولہ احمد بن بویہ نے 18 ذوالحجہ 352ھ میں بغداد میں عید منانے کا حکم دیا خوب ڈھول بجائے گئے اور خوشیاں منائی گئیں۔ امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ’’البدایۃ والنھایۃ‘‘ میں 352ھ کے واقعات میں لکھتے ہیں: 18 ذوالحجہ 352 ہجری کو معز الدولہ نے بغداد شہر کو مزین کرنے کا حکم دیا کہ رات کو بازار کھلے رکھے جائیں، شادیانے اور ڈھول وغیرہ بجائے جائیں اور امراء کے دروازوں پر چراغ روشن رکھے جائیں۔ یہ سارا کچھ ایک بہت ہی قبیح اور بری بدعت ’’عید غدیر خم‘‘ کی خوشی میں کیا گیا۔[1] امام مقریزی فرماتے ہیں: عید غدیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمۃ اللہ علیہم سے ثابت نہیں ہے، پہلی دفعہ عراق میں معزالدولہ علی بن بویہ کے دور حکومت میں 352 ہجری میں اسے شروع کیا گیا۔ تب سے شیعہ حضرات نے اسے عید کے طور پر منانا شروع کر دیا۔[2] عید غدیر خم کا شمار ان بدعات میں ہوتا ہے جنھیں عبیدی امراء نے شروع کیا تھا۔ جو کہ بدعت پرور اور بدعت نواز تھے اور یہ عید انھوں نے آل بیت سے محبت کے دعوے کے تحت شروع کی کیونکہ وہ اپنے آپ کو اہل بیت میں سے ثابت کرتے تھے۔ عید غدیر کی اس بدعت کے لیے پہلے پہل خصوصی طور پر مجالس وغیرہ کا اہتمام مصر میں 18 ذوالحجہ 362 ہجری میں کیا گیا۔[3] [1] البدایۃ والنھایۃ: 272/11۔ [2] الخطط والآثار للمقریزي: 388/1۔ [3] الخطط والآثار: 389/1۔