کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 392
اور تلاوتِ قرآن کا خصوصی اہتمام کرنا۔ صاحب استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرنا۔ ذوالحجہ کی پہلی تاریخ سے 13 ذوالحجہ کی شام تک تکبیریں پڑھنا۔ یوم عرفہ، یعنی 9 ذوالحجہ کا نفلی روزہ رکھنا۔ 10 ذوالحجہ کو عیدالاضحی کی نماز باہر کھلے میدان میں ادا کرنا اور پھر قربانی کرنا۔ عید کے دن غسل کر کے نئے یا دھلے ہوئے کپڑے پہننا اور خوشبو استعمال کرنا، نماز عید کے لیے گھر سے کچھ کھائے پیے بغیر تکبیریں پڑھتے ہوئے عید گاہ کی طرف جانا۔ عورتوں کو بھی عیدگاہ میں لے جانا، نماز عیدالاضحی طلوع شمس کے بعد جلدی اداکرنا، مسلمان بھائی کو تَقَبَّلَ اللّٰہُ مِنَّا وَ مِنْکُمْ کہہ کر مبارکباد دینا، عیدگاہ سے واپسی پر راستہ تبدیل کرنا، قربانی کا گوشت خود بھی کھانا، رشتے داروں، دوستوں اور فقراء و مساکین کو بھی دینا۔ اَیام تشریق (13,12,11 ذوالحجہ) میں کھانا پینا اور روزہ نہ رکھنا۔ قربانی کی نیت رکھنے والے کا عشرۂ ذوالحجہ میں حجامت وغیرہ نہ کروانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’إِذَا رَأَیْتُمْ ہِلاَلَ ذِي الْحِجَّۃِ، وَأَرَادَ أَحَدُکُمْ أَنْ یُّضَحِّيَ فَلْیُمْسِکْ عَنْ شَعْرِہٖ وَأَظْفَارِہٖ‘ ’’جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کا ارادہ رکھے تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔‘‘[1] اس حدیث سے اس بات کی تاکید معلوم ہوتی ہے کہ قربانی کی نیت رکھنے والے شخص کو ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد حجامت کروانے اورناخن تراشنے سے اجتناب کرنا [1] صحیح مسلم، الأضاحي، باب نھي من دخل علیہ عشر ذي الحجۃ، وھو یرید التضحیۃ أن یأخذ من شعرہ…، حدیث: 1977۔