کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 391
اعمال زیادہ ذوق و شوق اور زیادہ اہتمام سے کیے جائیں، وہاں تکبیرات کا بھی خوب اہتمام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں یہ معمول ہے کہ نو (9) ذوالحجہ کی نماز فجر سے تکبیرات کا آغاز کیا جاتا ہے اور پھر ہر فرض نماز کے بعد پڑھی جاتی ہیں اور یہ سلسلہ 13ذوالحجہ کی نماز عصر تک چلتا ہے۔ اور یہ تکبیرات بایں الفاظ پڑھی جاتی ہیں: ’اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ‘ یہ معمول اور الفاظ تکبیرات ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت ہیں۔[1] اسی طرح حضرت علی اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما کے ایک صحیح اثر سے بھی ثابت ہے کہ عرفے کی صبح سے ایام تشریق کے آخر تک تکبیرات پڑھی جائیں (فتح الباری) جبکہ ابن عمر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے عمل کے مطابق تکبیرات بھی ذوالحجہ کی پہلی تاریخ سے 13ذوالحجہ کی عصر کے وقت تک پڑھی جائیں اور صرف نمازوں کے بعد ہی نہیں بلکہ دیگر اوقات میں بھی ان کا اہتمام کیا جائے۔ اسی طرح تکبیرات کے مذکورہ الفاظ بھی اگرچہ صحیح مرفوع حدیث سے ثابت نہیں لیکن حضرت عمر اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے منقول اثر سے یہ ثابت ہیں، اس لیے یہ بھی پڑھے جاسکتے ہیں، البتہ حافظ ابن حجر نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے منقول الفاظ: ’اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیرًا‘کو صحیح ترین قرار دیا ہے۔[2] مسنون اعمال ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں نیک اعمال نماز، صدقہ و خیرات، ذکر اذکار، روزوں [1] دیکھیے: الإروائ: 125/3، حدیث: 654۔ [2] فتح الباري، العیدین، باب التکبیر أیام منی: 595/2، طبع دارالسلام، الریاض۔