کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 390
اپنی رؤیت کی بنیاد پر کرتے ہیں تو پھر عرفہ سے مراد بھی ذوالحجہ کی وہی 9تاریخ ہوگی جو ہماری رؤیت کی بنیاد پر ہوگی، قطع نظر اس کے کہ اس روز سعودی عرب میں یومِ عرفہ ہو گا یا نہیں ہوگا؟ عشرئہ ذوالحجہ میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل مذکورہ احادیث پر عمل کرتے ہوئے صحابۂ کرام عشرۂ ذوالحجہ میں خوب ذوق و شوق سے اعمال صالحہ اور عبادات و نوافل کا اہتمام فرماتے تھے: ’کَانَ ابْنُ عُمَرَ وَأَبُوہُرَیْرَۃَ یَخْرُجَانِ إِلَی السُّوقِ فِي اْلأَیَّامِ الْعَشْرِ یُکَبِّرَانِ وَیُکَبِّرُ النَّاسُ بِتَکْبِیرِہِمَا‘ ’’چنانچہ حضرت ابن عمر اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ عمل تھا کہ وہ ان دس ایام میں بازار جاتے اور بلند آواز سے تکبیریں پڑھتے، انھیں دیکھ کر دوسرے لوگ بھی تکبیریں پڑھنا شروع کردیتے۔‘‘[1] ’فَکَانَ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ إِذَا دَخَلَ أَیَّامُ الْعََشْرِ اجْتَہَدَ اجْتِہَادًا شَدِیدًا حَتّٰی مَا یَکَادُ یُقْدَرُ عَلَیْہِ‘ ’’حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق آتا ہے کہ وہ عشرۂ ذوالحجہ میں بسلسلۂ اعمال صالحہ خوب سعی و کوشش کرتے یہاں تک کہ قریب نہ ہوتا کہ اس پر قادر ہوا جائے۔‘‘[2] تکبیرات کا مسئلہ صحیح بخاری کے مذکورہ اثر سے واضح ہے کہ عشرۂ ذوالحجہ میں جہاں نیکی کے دوسرے [1] صحیح البخاري ، العیدین، باب فضل العمل في أیام التشریق، قبل الحدیث: 969۔ [2] سنن الدارمي: 357/1، تحت حدیث: 1781۔