کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 389
اس دن وہاں حاجیوں کے لیے روزہ رکھنا غیر مستحب ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ لیکن غیر حاجیوں کے لیے اس دن روزہ رکھنا نہ صرف جائز ہے بلکہ نہایت فضیلت والا عمل ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’صِیَامُ یَوْمِ عَرَفَۃَ، أَحْتَسِبُ عَلَی اللّٰہِ أَنْ یُّکَفِّرَ السَّنَۃَ الَّتِي قَبْلَہٗ وَالسَّنَۃَ الَّتِي بَعْدَہٗ‘ ’’عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے، مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ گزشتہ اور آئندہ (دوسالوں) کے گناہ معاف فرما دے گا۔ ‘‘[1] نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان غیر حاجیوں کے لیے ہے کیونکہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا، آپ نے عرفہ کے دن روزہ نہیں رکھا، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، انھوں نے روزہ نہیں رکھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، انھوں نے روزہ نہیں رکھا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، انھوں نے بھی روزہ نہیں رکھا۔ اورمیں بھی اس دن (عرفے میں) روزہ نہیں رکھتا اورنہ اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ اس سے روکتا ہوں۔[2] یوم عرفہ سے کون سا دن مراد ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یوم عرفہ سے مراد وہ دن ہے جب سعودی عرب میں 9ذوالحجہ ہو۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں۔ جب ہم عید الفطر، عید الاضحی، رمضان کا آغاز سب [1] صحیح مسلم، الصیام، باب استحباب ثلاثۃ أیام من کل شھر…، حدیث: 1162۔ [2] جامع الترمذي، الصوم، باب ماجاء في فضل الصوم یوم عرفۃ، حدیث: 751۔