کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 387
یعنی ’لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ‘ کا ورد کرو۔ عشرۂ ذوالحجہ میں کیے گئے عملوں کی فضیلت کی وجہ کیا ہے؟ اس کی بابت علماء نے مختلف توجیہات بیان کی ہیں، مثلاً: یہ کہ عشرئہ ذوالحجہ میں یوم نحر، یوم عرفہ اور یوم ترویہ آتا ہے، اس لیے یہ عشرہ سال کے تمام ایّام سے افضل ہے حتی کہ رمضان کے آخری عشرے سے بھی افضل ہے، تاہم رمضان کے آخری عشرے کی دس راتیں سال کی تمام راتوں میں افضل ہیں کیونکہ ان دس راتوں میں پانچ وہ طاق راتیں آتی ہیں جن میں سے کوئی ایک رات قدر والی ہوتی ہے جو ہزار مہینے کی راتوں سے زیادہ بہتر ہے، اس لیے رمضان کے عشرئہ اخیر کی راتیں افضل ترین اور عشرئہ ذوالحجہ کے دن تمام دنوں میں افضل ترین ہیں۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (تحفۃ الأحوذي، الصوم، باب ماجاء في العمل في أیام العشر : 58/2، طبع قدیم، و زاد المعاد: 57/1، بتحقیق شعیب أرنؤوط، و فتح الباري، باب فضل العمل في أیام التشریق: 593/2، طبع دارالسلام) تاہم اس فضیلت کی اصل حقیقت اللہ ہی جانتا ہے۔ ہمیں تو اس فضیلت پر یقین رکھ کر ان دس دنوں میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کرنے چاہئیں کیونکہ یہ فضیلت صحیح احادیث میں بیان ہوئی ہے۔ یوم النحر کی فضیلت دس ذوالحجہ کو یوم النحر (نَحْر ’قربانی‘ کا دن) کہا جاتا ہے۔ اس کی بھی خصوصی فضیلت احادیث میں بیان ہوئی ہے، مثلاً: ’إِنَّ أَعْظَمَ الأَْیَّامِ عِنْدَاللّٰہِ یَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ یَوْمُ الْقَرِّ‘ ’’اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والا دن یوم النحر ہے، پھر یوم القر ّ ہے۔‘‘[1] [1] سنن أبي داود، المناسک، باب: 19، حدیث: 1765۔