کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 385
گئی ہے، ان کا مسلمانوں کو سرے سے علم ہی نہیں ہوتا، عمل تو بہت بعد کی بات ہے۔ جس طرح عشرۂ محرم کے سلسلے میں بدعی تصورات عوام کے ذہنوں میں راسخ ہیں، حالانکہ شریعت میں ان کی کوئی اصل نہیں۔ ایک برخود غلط مذہب کے پیروکاروں نے ان تصورات کو رائج کیا اوراپنے مخصوص عقائد و افکار کی اشاعت کے لیے ان ایام کو خاص کرکے کچھ اعمال و رسوم کو ان دنوں میں باعث ثواب گردانا۔ بد قسمتی سے اہل سنت کے جاہل عوام میں بھی یہ شیعی تصورات و اثرات نفوذ کر گئے اور ان میں ایک طبقہ عشرۂ محرم کے سلسلے میں شیعی و بدعی تصورات کا قائل اور عامل ہے، حالانکہ شریعت میں عشرۂ محرم کے سلسلے میں کچھ بیان نہیں کیا گیا، البتہ محرم کی دسویں تاریخ کا روزہ رکھنا حدیث سے ثابت ہے۔ علاوہ ازیں اس کے ساتھ 9یا 11محرم کا روزہ ملانا بھی مستحب ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی خواہش کی تھی۔ اسی طرح ماہ محرم میں نفلی روزوں کی بھی تاکید ہے۔ ذوالحجہ کے مہینے کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس میں اسلام کا ایک اہم رکن حج ادا کیا جاتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کی ملی تقریب…عید قربان… بھی اسی مہینے کی 10 تاریخ کو منائی جاتی ہے۔ غالباً اسی وجہ سے اس مہینے کے پہلے دس دنوں کی بہت فضیلت احادیث میں بیان کی گئی ہے اوراللہ تعالیٰ نے جن راتوں کی قسم سورۂ فجر میں کھائی ہے: (وَالْفَجْرِ ﴿١﴾ وَلَيَالٍ عَشْرٍ ﴿٢﴾) ’’قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی۔‘‘[1] جمہور مفسرین نے ان سے بھی ذوالحجہ کی دس راتیں مراد لی ہیں۔ جس سے ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کی فضیلت ہی کا اثبات ہوتا ہے۔ لیکن افسوس کہ عوام ان ایام [1] الفجر: 89/1-2