کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 377
ان کی وجہ سے ایک مسلمان اللہ کے ہاں ہمیشہ روزہ رکھنے والا شمار ہوگا۔اور وہ اس طرح کہ اللہ نے ہر نیکی کے لیے اپنے فضل و کرم کاحامل یہ ضابطہ بنایا ہے کہ وہ اس کا کم از کم اجر دس گنا ضرور دے گا (زیادتی کی حد سات سو گُنا بلکہ اس سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے)۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: (مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ۖ) ’’جو ایک نیکی کرے گا، اسے دس نیکیوں کے برابر اجر ملے گا۔‘‘[1] اس حساب سے رمضان المبارک کے 30روزے (10×30) تین سو دن کے روزوں کے برابر اور شوال کے چھ روزے 60(60×10)(ساٹھ) دن کے روزوں کے برابر ہو گئے۔ اورقمری سال 360دن کا ہوتا ہے۔ گویا وہ ایسے ہے جیسے اس نے سارا سال روزوں کے ساتھ گزارا۔ شوال کے چھ روزوں کی اہمیت اوراس کے تقاضے علاوہ ازیں رمضان المبارک کے روزوں اوراس کی راتوں کے قیام و شب خیزی کے بعد، شوال میں نفلی روزوں کا اہتمام اس بات کی علامت ہے کہ اس کے رمضان کے روزے اوراس کی عبادت اللہ کے ہاں شرفِ قبولیت سے نواز دی گئی ہے کیونکہ نیکی کے بعد نیکی کی توفیق مل جانا، عند اللہ پہلی نیکی کی قبولیت کی دلیل ہے، جیسے کسی نیکی کے بعد معصیت کا ارتکاب اس بات کی علامت ہے کہ اس کی نیکی کسی وجہ سے مردود ہوگئی ہے۔ اس معیار سے جب ہم اپنی رمضان المبارک کی عبادتوں اور روزوں کا جائزہ لیں تو [1] الأنعام 160:6۔