کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 376
3 عیدالفطر کی نماز کے بعد بارہ رکعات نفلی نماز پڑھنا سنت ہے اور عیدالاضحی کی نماز کے بعد چھ رکعات نفلی نماز پڑھنا سنت ہے۔ [1] 4 جو آدمی چار راتیں بیدار رہا (بیدار رہ کر عبادت کی) اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے: ترویہ کی رات، عرفہ کی رات، قربانی کی رات اور عیدالفطر کی رات۔[2] 5 جس نے عیدالفطر کے دن روزہ رکھا گویا کہ اس نے سارے زمانے کے روزے رکھے۔ امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے موضوع قرار دیا ہے۔[3] ویسے بھی یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت صحیح احادیث کے مخالف ہے جن میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالأضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔[4] شش عیدی (شوال کے6) روزے اس مہینے کی بابت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَہٗ سِتًّا مِّنْ شَوَّالٍ، کَانَ کَصِیَامِ الدَّہْرِ‘ ’’جس نے رمضان کے روزے رکھے، پھر اس کے پیچھے شوال کے چھ روزے رکھے تو وہ ایسے ہے جیسے اس نے ہمیشہ روزے رکھے۔‘‘[5] اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ چھ روزے اگرچہ نفلی ہیں لیکن ان کی اہمیت یہ ہے کہ [1] امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے موضوع قرار دیا ہے، دیکھیے: الفوائد المجموعۃ للشوکاني، ص: 52، حدیث: 151۔ [2] امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے موضوع قرار دیا ہے، دیکھیے: العلل المتناھیۃ لابن الجوزي: 78/2، والسلسلۃ الضعیفۃ للألباني: 12/2، حدیث: 522۔ [3] العلل المتناہیۃ: 57/2۔ [4] اس مسئلہ کی تفصیلی بحث کے لیے دیکھیے: البدع الحولیۃ، ص: 347۔ [5] صحیح مسلم، الصیام، باب استحباب صوم ستۃ أیام من شوال…، حدیث : 1164۔