کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 375
سے رمضان کے مہینے کو قبول کر لیتا ہے۔ نبی علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’میں نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا: اے جبریل! اس کی طرف سے خصوصی طور پر اور اس کے علاقے کے لوگوں سے عمومی طور پر رمضان کا مہینہ قبول فرماتاہے؟‘‘ تو جبریل علیہ السلام نے فرمایا:اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے! جو بھی یہ نماز پڑھ لیتا ہے اللہ اس کے روزے اور نمازیں قبول فرما لیتا ہے کیونکہ اللہ عزوجل نے اپنی کتاب قرآن مجید میں فرمایا ہے: (اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا ﴿١٠﴾) مزید فرمایا: (تُوبُوا إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُم مَّتَاعًا حَسَنًا إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّ)اور فرمایا: (وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ ۚ إِنَّ اللّٰهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿١٩٩﴾) اور مزید فرمایا: (وَاسْتَغْفِرْهُ ۚ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا ﴿٣﴾)نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ میری امت کے مردوں اور عورتوں کے لیے ہے۔ اور میری امت سے پہلے یہ کسی کو نصیب نہیں ہوا۔‘‘[1] 2 حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے عیدالفطر کے دن عیدکی نماز پڑھنے کے بعد چار رکعات نفل نماز ادا کی اور اس کی پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ اور سورئہ اعلیٰ پڑھی اور دوسری رکعت میں(وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا ﴿١﴾) (سورۂ شمس) پڑھی اورتیسری میں سورئہ ضحی پڑھی اور چوتھی میں(قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ ﴿١﴾) (سورۂ اخلاص) پڑھی تو گویا اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء پر نازل ہونے والی تمام کتابیں پڑھ لیں اور گویا اس نے تمام یتیموں کو کھانا کھلایا اور ان کی صفائی ستھرائی کا اہتمام بھی کیا۔ اور اسے پوری کائنات کی چیزوں کی مانند اجر ملے گا اور پچاس سال کے گناہ بھی معاف کر دیے جائیں گے۔‘‘[2] [1] اس روایت کے موضوع ہونے میں کوئی شک نہیں۔ دیکھیے: الموضوعات لابن الجوزي: 53,52/2، واللآلِي المصنوعۃ في الأحادیث الموضوعۃ: 61,60/2۔ [2] یہ حدیث موضوع ہے، دیکھیے: الموضوعات لابن الجوزي: 54,53/2۔