کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 371
فَقَالَ: إِنَّ جِبْرِیلَ أَتَانِي، فَقَالَ: مَنْ أَدْرَکَ شَہْرَ رَمَضَانَ فَلَمْ یُغْفَرْلَہٗ فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَہُ اللّٰہُ، قُلْ: آمِین۔ فَقُلْتُ: آمِین‘ ’’ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر چڑھتے ہوئے تین مرتبہ آمین، آمین، آمین کہا، آپ سے سوال ہوا کہ آپ نے منبر پر چڑھتے ہوئے آمین، آمین، آمین کہا (یہ کیوں؟) آپ نے فرمایا: میرے پاس جبریل آئے اور کہا: جو شخص رمضان پائے، پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہو جائے اور نتیجتاً آگ میں داخل ہو جائے، ایسے شخص کو اللہ ہلاک کرے، پھر جبریل نے مجھ سے کہا: آمین کہیے، تو میں نے آمین کہہ دی (اے اللہ! جبریل کی یہ بددعا قبول فرما لے)۔‘‘[1] اس سے معلوم ہوا کہ عید کی مسرتوں کے ساتھ ہر مسلمان کو اپنا محاسبہ بھی کرنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کے حضور عجزو نیاز کرکے اپنی کوتاہیوں کی معافی بھی طلب کرنی چاہیے کہ یہ دن صرف یومِ مسرت، روزِ بشارت ہی نہیں، یومِ محاسبہ اور لمحۂ فکر یہ بھی ہے۔ [1] صحیح ابن خزیمۃ و ابن حبان بحوالہ، صحیح الترغیب، حدیث: 1679۔