کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 370
(فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ)[1] عید کے پُر مسرّت موقع پر ہمیں یہی سوچنا ہے کہ کیا رمضان المبارک کے تقاضے پورے کر کے ہم نے اپنے اللہ کو راضی کرلیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو یقینا ہم بہت خوش نصیب ہیں اور دائمی مسرت (جنت) کے حقدار۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو عید کی مسرتوں سے ہمارا کیا تعلق! ہمیں تو خوشی منانے کا حق ہی نہیں ہے۔ مسلمان کی خوشی نئے لباس اور انواع و اقسام کے کھانوں اور فواکہ ومشروبات میں نہیں، صرف رضائے الٰہی کے حصول میں منحصر ہے، یہی حاصل نہ ہوئی تو یہ لذائذ دنیا اور سامانِ راحت و نشاط (وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ ﴿١٨٥﴾)[2]کے مطابق دھوکے کی ٹٹی ہے… یہی وہ پہلو ہے جس کی طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے ارشادات میں مسلمانوں کی توجہ مبذول کرائی ہے، فرمایا: ’مَنْ صَامَ رَمَضَانَ فَعَرَفَ حُدُودَہٗ وَ تَحَفَّظَ مِمَّا کَانَ یَنْبَغِي لَہٗ أَنْ یَّتَحَفَّظَ فِیہِ کَفَّرَ مَا قَبْلَہٗ‘ ’’جس مسلمان نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے تقاضے پورے کیے اور ہر احتیاط کو ملحوظ رکھا تو اس کے گزشتہ سب گناہ معاف ہو گئے۔‘‘[3] دوسری روایت میں ہے: ’أَنَّ النَّبِيَّ صلي اللّٰه عليه وسلم صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: آمِین، آمِین، آمِین، قِیلَ: یَارَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّکَ صَعِدْتَّ الْمِنْبَرَ فَقُلْتَ: آمِین، آمِین، آمِین، [1] آل عمران: 3/185 [2] آل عمران: 3/185 [3] مجمع الزوائد: 347/3، طبع جدید، 1994ئ، والموسوعۃ الحدیثیۃ (مسند أحمد:) 84/18، حدیث: 11524، و لطائف المعارف للحافظ ابن رجب رحمہ اللّٰہ، ص : 197۔