کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 368
بقر عید کی آمد سے ایک ماہ پہلے ہم پھر مہم پر نکلے، اس مرتبہ ہم نے کراچی سے راس کماری تک عید کارڈ فروخت کیے، اگلے برس محکمہ داخلہ نے بیس ہزار عید کارڈ دیے، اس دفعہ مذہبی تصاویر کے ساتھ ایسے کارڈ بھی دیے گئے جن پر خوب صورت بچوں، پھلوں اور پھولوں کی تصویریں تھیں، ان بچوں کو عربی لباس پہنائے گئے تھے، حالانکہ وہ شکل و صورت سے انگریز بچے ہی لگتے تھے، یہ بھی بہ آسانی فروخت ہوگئے۔ تیسرے برس جو کارڈ ملے ان میں بچوں اور بچیوں کے لباس مختصر اور جدید فیشن کے مطابق کردیے گئے، چوتھے برس ہم نے پچاس ہزار سے زائد کارڈ فروخت کیے۔ یوں ہم نے اچھی خاصی دولت کمائی۔ جب ہم حساب کرنے لگے تو سیکریٹری صاحب نے رقم ادا کرنے کے بعد کہا کہ آئندہ کوئی کارڈ نہیں ملے گا، اگر اس سلسلے کو جاری رکھنا چاہو تو تم خود چھپوالو، اگلے رمضان المبارک سے پہلے ہی پورے برصغیر کے کتب فروشوں کے خطوط اور آرڈر موصول ہونے لگے، اب ہم مالی لحاظ سے اس قابل ہوگئے کہ اس کاروبار کو خود جاری رکھ سکتے تھے، ہم نے مختلف چھاپہ خانوں سے عید کارڈ چھپوائے، اگرچہ ان عید کارڈوں کی چھپائی انگلینڈ کے معیار کی نہیں تھی، تاہم پھر بھی اچھی خاصی تعداد میں نکاسی ہوگئی۔ اس کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا اور بے شمار چھاپہ خانوں نے عید کارڈ چھاپنے شروع کردیے، یوں یہ منافع بخش کاروبار، وبا کی طرح پورے ملک میں پھیل گیا۔‘‘ چوہدری صاحب نے ایک سرد آہ بھر کر کہا: ’’مجھے کافی عرصہ کے بعد احساس ہوا کہ سرکارِ برطانیا نے ایک بے حد مذموم مقصد کے لیے مجھے آلۂ کار بنایا ہے۔میں نادم ہوں کہ میں نے ایک بری رسم کا آغاز کیا، جو سراسراسرافِ بے جا ہے، آج عید کارڈوں کی وجہ سے کروڑوں