کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 363
(ا) ’’جس شخص کی فرض نمازیں قضا ہوگئی ہوں، اگر وہ اپنے اس فعل پر نادم و شرمندہ ہوکر توبہ کرے اور قضا شدہ نمازوں کو پڑھ لے اور پھر قضائے عمری کے نوافل پڑھے تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے قضائے عمری کی وجہ سے اس کی نمازیں قضا ہونے اور ان میں تاخیر ہونے کا جو گناہ ہوا تھا وہ گناہ معاف بلکہ نیکی میں تبدیل ہوجائے گا۔ نوافل قضائے عمری کی ترکیب یہ ہے کہ جمعہ (جمعۃ الوداع) کے دن ظہر و عصر کے درمیان بارہ رکعت نفل پڑھے اور ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ، آیت الکرسی، قل ھو اللّٰهُ احد اور سورۂ فلق و سورۂ ناس ایک ایک بار پڑھے۔ (ب) جس کی نمازیں قضا ہوگئی ہوں اسے چاہیے کہ پیر کی رات کو پچاس رکعت نفل پڑھے اور فارغ ہوکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرایک سو بار درود شریف پڑھے، اس سے خدا تعالیٰ ان سب نمازوں (کی قضا کے گناہ) کا کفارہ ادا کردے گا۔ اگرچہ سو برس کی کیوں نہ ہوں۔‘‘[1] مذکورہ اقتباس کی وضاحت اقتباس بالا میں قضائے عمری کی جو ’’فضیلت اور اجروثواب‘‘ بیان کیا گیا ہے وہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔ اس سلسلے میں جو روایات بیان کی جاتی ہیں خود حنفی علماء نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ وہ موضوع (من گھڑت) ہیں اور من گھڑت احادیث سے نہ کوئی مسئلہ ثابت ہوتا ہے اور نہ کوئی اجروثواب، چنانچہ مولانا عبدالحی لکھنوی حنفی رحمۃ اللہ علیہ اس کی بابت لکھتے ہیں: ’حَدِیثُ مَنْ قَضٰی صَلَوَاتٍ مِّنَ الْفَرَائِضِ فِي آخِرِ جُمُعَۃٍ مِّنْ [1] ماہنامہ ’رضائے مصطفٰی‘ گوجرانوالہ، شمارہ رمضان و شوال 1401ھ، ص:9۔