کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 358
ہے کہ شبِ قدر میں ذکر کا یہ طریقہ مسنون ہے؟ اسلاف (صحابہ و تابعین) میں سے کسی نے یہ طریقہ اختیار کیا؟ جواب یقینا نفی میں ہے کیونکہ شبِ قدر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے نہ صحابہ و تابعین میں سے کسی نے، اس لیے شبِ قدر میں یکسوئی سے عبادت اور ذکر الٰہی ہی کاطریقہ مستحسن اور پسندیدہ ہوگا جو عہدِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سمیت خیر القرون میں رہا۔ اور وہ طریقہ کیا ہے؟ انفرادی طورپر شب بیداری اور پھر ذکر و عبادت۔ جس میں قیام اللیل (نفلی نماز) دعا و مناجات، توبہ و استغفار اور تلاوتِ قرآن وغیرہ کا اہتمام ہو۔ اس کے لیے ضروری نہیں ہے کہ ساری رات بیدار رہا جائے کیونکہ ایسا کرنا انسانی عادت کے خلاف ہے اور کسی انسان کے لیے سخت مشقت کے بغیر ایسا کرنا ممکن نہیں ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا) ’’اللہ تعالیٰ کسی نفس کو اس کی طاقت سے بڑھ کر بات کا مکلف نہیں ٹھہراتا۔‘‘[1] بنا بریں ایک شخص جتنا وقت آسانی سے جاگ کر لیلۃ القدر میں اللہ کی عبادت کر سکتا ہے، اتنی عبادت کرنے سے امید ہے کہ اسے شبِ قدر کی فضیلت حاصل ہوجائے گی، اس لیے لوگوں کو ساری رات بیدار رکھنے کے لیے وعظ و تقریر کا یہ سلسلہ غیر مستحسن ہے۔ اس سے لوگوں میں نہ عبادت کا ذوق پیدا ہوتا ہے اورنہ شب خیزی اور اللہ سے لَو لگانے کاجذبہ۔ جبکہ شبِ قدر کو مخفی رکھنے اوراس میں عبادت کی ترغیب دینے سے یہی مقصد معلوم ہوتا ہے۔ ختمِ قرآن پر شیرینی کی تقسیم، چراغاں اور لمبی لمبی دعاؤں کا اہتمام ختمِ قرآن پر شیرینی وغیرہ کی تقسیم کاجواز، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایک قول سے ماخوذ [1] البقرۃ 286:2۔