کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 356
سے پہلے اسے ادا کیا جائے۔‘‘[1] نماز عید سے چند دن پہلے بھی صدقۂ فطر کی ادائیگی ہو سکتی ہے۔ عیدالفطر کے بعدوالی ادائیگی صدقۂ فطر شمار نہیں ہوگی، عام صدقہ ہو گا۔ صحیح بخاری میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے: ’وَکَانُوا یُعْطُونَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِیَوْمٍ أَوْیَوْمَیْنِ‘ ’’صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نماز عید الفطر سے ایک دو یوم پہلے صدقۂ فطر دے دیتے تھے۔‘‘[2] [1] صحیح البخاري، الزکاۃ، باب فرض صدقۃ الفطر، حدیث: 1503، وصحیح مسلم، الزکاۃ، باب زکاۃ الفطر علی المسلمین، حدیث: 984۔ [2] صحیح البخاري، الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر …، حدیث: 1511۔