کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 354
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فوت کر دیا، پھر آپ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اعتکاف کرتی تھیں۔‘‘[1] مرد کی طرح عورت بھی اعتکاف کر سکتی ہے۔ مگر عورت بھی مسجد میں اعتکاف کرے گی۔ عورت کا گھر میں اعتکاف کرنا کسی طور پر جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ) ’’اور تم مسجدوں میں اعتکاف کرنے والے ہو۔‘‘[2] معتکف کے لیے مسلمان ہونا، حیض و نفاس اور جنابت سے پاک ہونا، اعتکاف کی نیت کرنا اور مسجد کا ہونا ضروری ہے۔ نیت صرف دل کے ارادے کا نام ہے۔ اس کے لیے کوئی مخصوص الفاظ احادیث میں نہیں ملتے۔ (9) لیلۃ القدر کی تلاش لیلۃ القدر جو رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک ہے۔ اس کی تلاش کے لیے ذکر و عبادت میں مصروف رہ کر راتیں گزارنا بھی بڑی فضیلت والا عمل ہے، حدیث میں ہے: ’’جس نے شب قدر میں قیام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔‘‘[3] (10)صدقۂ فطر رمضان کے روزوں کے اختتام پر صدقۂ فطر دینا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ یہ روزوں [1] صحیح البخاري، الاعتکاف، باب الاعتکاف في العشر الأواخر، حدیث: 2026، وصحیح مسلم، الاعتکاف، باب اعتکاف العشر الأواخر من رمضان، حدیث: 1172۔ [2] البقرۃ 187:2۔ [3] صحیح البخاري، فضل لیلۃ القدر، باب: 1، حدیث: 2014۔