کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 353
لہٰذا ہمیں بھی رمضان المبارک میں کثرت سے صدقہ و خیرات کا اہتمام کرنا چاہیے۔ (7)روزے افطار کروانا اس مہینے میں روزے افطار کروانا بہت بڑی فضیلت اور اجرو ثواب کا کام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا کَانَ لَہٗ مِثْلُ أَجْرِہٖ غَیْرَ أَنَّہٗ لَا یَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَیْئًا‘ ’’جس نے کسی روزے دار کا روزہ کھلوایا، تو اس کو بھی روزے دار کی مثل اجر ملے گا، بغیر اس کے کہ اللہ تعالیٰ روزے دار کے اجر میں کوئی کمی کرے۔‘‘[1] (8) اعتکاف اور رمضان رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف بھی سنت ہے۔ اعتکاف کے لغوی معنی ٹھہرنا اور کسی چیز پر جم کر بیٹھ جانا ہیں۔ اصطلاح میں دنیاوی مصروفیات چھوڑ کر عبادت کی غرض سے مسجد میں ٹھہرنا اعتکاف کہلاتا ہے۔ اعتکاف سال میں کسی بھی وقت ہو سکتا ہے لیکن افضل رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف ہے، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرے کا اعتکاف پابندی سے کرتے رہے، حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے جاملے، یعنی آخری عشرے کا اعتکاف سنت مؤکدہ ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ’أَنَّ النَّبِيَّ صلي اللّٰه عليه وسلم کَانَ یَعْتَکِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتّٰی تَوَفَّاہُ اللّٰہُ تَعَالٰی، ثُمَّ اعْتَکَفَ أَزْوَاجُہٗ مِنْ بَعْدِہٖ‘ [1] جامع الترمذي، الصوم، باب ماجاء في فضل من فطر صائمًا، حدیث: 807۔