کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 352
’’بلاشبہ رمضان المبارک میں عمرہ کرنا حج کے یا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔‘‘[1] لہٰذا انسان کو رمضان المبارک میں دوسری نیکیوں میں رغبت کے ساتھ عمرے کی سعادت حاصل کرنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔ (6)رمضان المبارک اور صدقہ و خیرات رمضان نیکیوں کا موسم بہار ہے، لہٰذا اس مہینے میں انسان کو ہر قسم کی نیکیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی کوشش کرنی چاہیے اور خاص طور پر دوسروں پر خرچ کرنے میں سبقت کرنی چاہیے، اس مبارک مہینے میں نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل بھی ہمارے لیے اسوۂ حسنہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ’کَانَ النَّبِيُّ صلي اللّٰه عليه وسلم أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَیْرِ، وَکَانَ أَجْوَدَ مَا یَکُونُ فِي رَمَضَانَ، حِینَ یَلْقَاہُ جِبْرِیلُ… فَإِذَا لَقِیَہٗ جِبْرِیلُ علیہ السلام کَانَ أَجْوَدَ بِالْخَیْرِ مِنَ الرِّیحِ الْمُرْسَلَۃِ‘ ’’نبیٔ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور سب سے زیادہ سخی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہوتے تھے جب رمضان المبارک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جبریل علیہ السلام کی ملاقات ہوتی … اس وقت رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیز چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوتے تھے۔‘‘[2] [1] صحیح البخاري، جزاء الصید، باب حج النسائ، حدیث: 1863۔ [2] صحیح البخاري، الصوم، باب أجود ماکان النبي صلي اللّٰه عليه وسلم یکون في رمضان، حدیث: 1902، وصحیح مسلم،الفضائل، باب جودہٖ صلي اللّٰه عليه وسلم ، حدیث: 2308۔