کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 347
سے (دکھلاوے اور ریاکاری کے لیے نہیں) تو اس کے گزشتہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔‘‘[1] ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’اَلصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَۃُ إِلَی الْجُمُعَۃِ، وَرَمَضَانُ إِلٰی رَمَضَانَ، مُکَفِّرَاتُ مَا بَیْنَہُنَّ، إِذَا اجْتَنَبَ الْکَبَائِرَ‘ ’’پانچوں نمازیں، جمعہ دوسرے جمعے تک اور رمضان دوسرے رمضان تک، ان گناہوں کا کفارہ ہیں جو ان کے درمیان ہوں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سےاجتناب کیا جائے۔‘‘[2] ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَہٗ سِتًّا مِّنْ شَوَّالٍ، کَانَ کَصِیَامِ الدَّہْرِ‘ ’’جس نے رمضان کے (فرضی) روزے رکھے اور اس کے بعد شوال میں چھ (نفلی) روزے رکھے، وہ شخص ایسے ہے جیسے وہ ہمیشہ روزے رکھنے والا ہے۔‘‘[3] اس کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کے روزے اَلْحَسَنَۃُ بِعَشْرِأَمْثَالِھَا کے تحت تین سو (300)اور چھ روزے ساٹھ روزوں کے برابر شمار ہوں گے اور قمری سال کے تین سو ساٹھ (360) دن ہی ہوتے ہیں۔ یوں گویا ایک مسلمان صائم الدہر (ہمیشہ روزہ رکھنے والا) شمار ہوگا ۔ اس اعتبار سے شوال کے یہ چھ روزے، جن کو ’’شش عیدی‘‘ کہا جاتا [1] صحیح البخاري، الصوم، باب من صام رمضان إیمانا واحتسابا ونیۃ، حدیث: 1901، وصحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب الترغیب في قیام رمضان وھو التراویح، حدیث: 760۔ [2] صحیح مسلم، الطھارۃ، باب الصلوات الخمس والجمعۃ إلی الجمعۃ…، حدیث: 233 [3] صحیح مسلم، الصیام ، باب استحباب صوم ستۃ أیام من شوال … ، حدیث: 1164۔