کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 344
’’جس نے بغیر کسی عذر اور بیماری کے رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دیا، وہ ساری زندگی بھی اس کی قضا دیتا رہے تو اس کی قضا ادا نہیں ہوگی۔‘‘[1] یہ روایت امام بخاری نے تعلیقًا روایت کی ہے۔ لیکن حافظ ابن حجر نے کہا ہے کہ اس روایت میں تین علتیں ہیں، ایک اضطراب، دوسری ابوالمطوس راوی کی جہالت اور تیسری یہ شک کہ ابوالمطوس کے باپ کا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہے یا نہیں۔[2] شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بھی یہ روایت ضعیف ہے، چنانچہ انھوں نے اسے ضعیف ابی داود، ضعیف ترمذی، ضعیف ابن ماجہ اور ضعیف الجامع ہی میں نقل کیا ہے۔ (3) مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رمضان کے روزے رکھنا، دوسری جگہوں کے مقابلے میں ہزار رمضان سے افضل ہیں۔ یہ دو روایات ہیں جو مجمع الزوائد میں ہیں اور دونوں ضعیف ہیں۔[3] (4) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو عورتوں نے روزہ رکھا، پیاس کی شدت سے وہ سخت نڈھال ہوگئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا گیا تو آپ خاموش رہے، پھر دوپہر کو دوبارہ آپ سے عرض کیا گیا کہ وہ مرنے لگی ہیں۔ آپ نے ان دونوں عورتوں کو بلوایا اور ایک بڑا پیالہ منگوایا اور باری باری دونوں سے کہا: ’’اس پیالے میں قے کرو‘‘ تو دونوں نے خون اور پیپ کی قے کی، دونوں کی قے سے پیالہ بھر گیا۔ آپ نے فرمایا: ’’انھوں نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں (کھانے پینے) سے تو روزہ رکھا اور اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے روزہ کھولتی رہیں۔ یہ آپس میں بیٹھی ہوئی لوگوں کا گوشت کھاتی، [1] ذکرہ البخاري تعلیقًا، الصوم، باب إِذا جامع في رمضان، وأخرجہ الأربعۃ۔ [2] تفصیل کے لیے دیکھیے فتح الباري، باب مذکور۔ اور کتاب العلل لابن أبي حاتم، حدیث: 776,750,720,674، والعلل للدارقطني: 274-266/8۔ [3] مجمع الزوائد، طبع جدید، بتحقیق عبداللّٰہ محمد الدرویش: 349,348/3۔