کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 342
نصیب ہے۔‘‘[1] ایک اور روایت میں ہے، رمضان کے شروع ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’إِنَّ ہٰذَا الشَّہْرَ قَدْ حَضَرَکُمْ، وَفِیہِ لَیْلَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَہْرٍ، مَنْ حُرِمَہَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَیْرَ کُلَّہٗ وَلَا یُحْرَمُ خَیْرَہَا إِلَّا مَحْرُومٌ‘ ’’یہ ماہ مبارک تمھارے پاس آ گیا ہے، اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے، جو اس سے محروم رہا، وہ ہر طرح کی خیر سے محروم رہا اور اس کی خیر سے بالکل محروم القسمت شخص ہی محروم رہتا ہے۔‘‘[2] ان احادیث سے واضح ہے کہ رمضان کا مہینہ نہایت عظمت و سعادت کا مہینہ ہے، اللہ تعالیٰ اس کی خصوصی عظمت کی وجہ سے اس ماہ مبارک میں وہ وہ اقدامات فرماتا ہے جو مذکورہ حدیثوں میں بیان ہوئے۔ جن سے اس مہینے کی خصوصی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ رمضان کی فضیلت میں بعض ضعیف روایات اس ماہ مبارک کی فضیلت میں بعض روایات بہت مشہور ہیں، لیکن وہ سند کے لحاظ سے کمزور ہیں، اس لیے ان کو بیان کرنے سے گریز کرنا چاہیے، ہم تنبیہ کے طور پر انھیں بھی یہاں درج کرتے ہیں تاکہ ضعیف روایات بھی لوگوں کے علم میں آجائیں، جنھیں خطیبان خوش بیان اور واعظان شیریں مقال اپنے مواعظ و خطبات میں اکثر بیان کرتے ہیں، جیسے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے، جس کے الفاظ [1] مسند أحمد : 230/2، وسنن النسائي، الصیام، ذکر الاختلاف علی معمر فیہ، حدیث : 2108، وقال الألباني: وھو حدیث جید لشواھدہ، مشکاۃ: 612/1۔ [2] سنن ابن ماجہ، الصیام، باب ما جاء في فضل شھر رمضان، حدیث: 1644، وقال الألباني: إسنادہ حسن، مشکاۃ: 612/1۔