کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 341
کھلا نہیں رہنے دیا جاتا۔ اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں رہنے دیا جاتا۔ اور ایک پکارنے والا پکار کر کہتا ہے: اے نیکیوں کے طالب! خوب پیش قدمی کر! اور اے برائیوں کے طالب! باز آجا۔ اور اللہ کے لیے جہنم سے آزاد کردہ لوگ ہوتے ہیں اور ہر رات کو ایسا ہوتا ہے (رمضان کی ہر رات کو اللہ جہنم سے لوگوں کو آزاد فرماتا ہے۔)‘‘[1] اس روایت میں کچھ ضعف ہے، بقول البانی رحمۃ اللہ علیہ جو درج ذیل حدیث سے دور ہوجاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’أَتَاکُمْ رَمَضَانُ، شَہْرٌ مُّبَارَکٌ، فَرَضَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ صِیَامَہٗ، تُفْتَحُ فِیہِ أَبْوَابُ السَّمَائِ، وَتُغْلَقُ فِیہِ أَبْوَابُ الْجَحِیمِ، وَتُغَلُّ فِیہِ مَرَدَۃُ الشَّیَاطِینِ، لِلّٰہِ فِیہِ لَیْلَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَہْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَیْرَہَا فَقَدْ حُرِمَ‘ ’’تمھارے پاس رمضان آیا ہے، یہ برکتوں والا مہینہ ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے تم پر فرض کیے ہیں، اس میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور سرکش شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس میں ایک رات ہوتی ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے، جو اس کی بھلائی سے محروم رہا، وہ بڑا ہی حرماں [1] جامع الترمذي، الصوم، باب ما جاء في فضل شھر رمضان،حدیث: 682، وسنن ابن ماجہ، الصیام، باب ماجاء في فضل شھر رمضان، حدیث: 1642، واللفظ لہ۔ وقال الترمذي: ھذا حدیث غریب، وقال الألباني: وھو کما قال: لکن ولہ شاھد في (المسند) یتقوی بہ وھو الذي بعدہ ۔ مشکاۃ للألباني: 611/1۔