کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 34
دین نہیں تھا، وہ آج بھی دین (اجرو ثواب والا کام) نہیں ہو سکتا۔‘‘[1] علاوہ ازیں بدعتی اللہ کے اس فرمان کو بھی جھٹلاتا ہے، اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے: ’’میں نے دین مکمل کر دیا۔‘‘ لیکن بدعتی اپنے طرز عمل سے کہتا ہے کہ نہیں، دین مکمل نہیں ہوا، اس میں تو فلاں فلاں رسم، فلاں فلاں عمل اور فلاں فلاں جشن بھی ہونا چاہیے تھا۔ یا پھر وہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ (نعوذ باللہ) بھول گیا کہ اس نے فلاں رسم اور فلاں عمل کی بابت کچھ بتلایا ہی نہیں، حالانکہ وہ تو بہت ضروری تھا۔ کیا یہ اللہ کی توہین نہیں، اس پر طعن نہیں؟ اللہ تعالیٰ نے تو اپنی بابت فرمایا ہے: (وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا ﴿٦٤﴾) ’’آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔‘‘[2] لیکن بدعتی خیال کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھول گیا۔نَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنْ ھٰذَا الزَّیْغِ وَالضَّلَالِ ۔ ٭ گویا بدعتی بدعت ایجاد کر کے اللہ کے رسول پر خیانت کا الزام لگاتا ہے۔ ٭ اللہ کے فرمان کو جھٹلاتا ہے۔ یا پھر ٭ اللہ کو سہوو نسیان کا مرتکب گردانتا ہے۔ ٭ اور اللہ اور اس کے رسول سے پیش قدمی کرتا ہے، حالانکہ اللہ اور اس کے رسول سے پیش قدمی کرنا منع ہے۔ ارشاد الٰہی ہے: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۚ) ’’اے ایمان والو! تم اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو۔‘‘[3] [1] الاعتصام، للإمام الشاطبي: 65,64/1، بہ تحقیق سلیم الھلالي، طبع: 1992ء ۔ [2] مریم 64:19۔ [3] الحجرات 1:49۔