کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 334
(إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ﴿١﴾) ’’بے شک ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل کیا۔‘‘[1] جو کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی ایک رات ہے، یہاں اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کا مہینہ اور اس مہینے کی خاص رات جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کا نزول شروع ہوا یا لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر بیت العزت میں اتارا گیا، اس کی بھی صراحت فرما دی ہے، جسے دوسری جگہ لیلۂ مبارکہ بھی کہا گیا ہے، لیلۂ مبارکہ کی قرآنی تفسیر سے پتا چلتا ہے کہ یہ لیلۃ القدر ہی ہے جس میں قرآن اتارا گیا اور اسی میں سال بھر کے حادثات و وقائع کا فیصلہ بھی کیا جاتا ہے، جمہور مفسرین کا یہی موقف ہے۔ نص قرآنی کے مقابلے میں ضعیف روایات سے لیلۂ مبارکہ کی تفسیر پندرھویں شعبان کی رات سے کرنا جائز نہیں بلکہ باطل ہے، لہٰذا شعبان کی پندرھویں رات کو فیصلوں کی رات قرار دینا یکسر غلط ہے ۔ پندرہ شعبان کا روزہ ثابت نہیں سنن ابن ماجہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک روایت آتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: ’إِذَا کَانَتْ لَیْلَۃُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُومُوا لَیْلَہَا وَصُومُوا نَھَارَھَا … الحدیث‘ ’’شعبان کی پندرھویں رات کو قیام، یعنی عبادت کرو اور دن میں روزہ رکھو…۔‘‘[2] [1] القدر 1:97۔ [2] سنن ابن ماجہ، إقامۃ الصلوات، باب ما جاء في لیلۃ النصف…، حدیث: 1388۔ محدث البانی نے بھی اسے موضوع قرار دیا ہے۔ دیکھیے: السلسلۃ الضعیفۃ للألباني: 154/5، حدیث: 2132۔