کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 333
کیا شب برات فیصلوں کی رات ہے؟ شب برا ت منانے والوں کا نظریہ ہے کہ یہ رات فیصلوں کی رات ہے۔ اور دلیل میں سورئہ دخان کی درج ذیل آیات مبارکہ پیش کرتے ہیں: (إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ ﴿٣﴾ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ ﴿٤﴾) ’’یقینا ہم نے اسے بابرکت رات میں اتارا ہے۔ بے شک ہم ڈرانے والے ہیں۔ اس رات میں ہر مضبوط کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘‘[1] اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ’’بابرکت رات‘‘ کا ذکر آیا ہے جس میں قرآن مجید کو اتارا گیا اور جس میں سال بھر میں ہونے والے واقعات کا فیصلہ کیا جاتا ہے، یہ حضرات اس ’’بابرکت رات‘‘ سے مراد شعبان کی پندرھویں رات لیتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا واقعتا ’’بابرکت رات‘‘ سے مراد شعبان کی پندرھویں رات ہے یا کوئی اور رات مراد ہے۔ اگر ہم اس آیت کی تفسیر اپنی رائے اور منشاء کے مطابق کرنے کے بجائے خود قرآن مجید ہی سے تلاش کریں تو اس سوال کا جواب ہمیں مل جاتا ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے نزول کے متعلق صراحت سے فرمایا ہے: (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ) ’’رمضان کے مہینے میں قرآن نازل کیا گیا۔‘‘[2] اور جس رات میں نازل کیا گیا اس کی صراحت بھی فرما دی کہ [1] الدخان 4,3:44۔ [2] البقرۃ 185:2۔