کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 332
جمعے کے دن کو روزہ کے لیے خاص نہ کرو۔ ہاں اگر جمعے کا دن ان دنوں میں آجائے جن میں تم میں سے کوئی روزہ رکھنے کا عادی ہو تو اس کا روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔‘‘[1] اگر کسی رات کو عبادت کے ساتھ خاص کیا جاسکتا ہوتا تو جمعہ کی رات ہفتے کے دنوں میں سے افضل ترین تھی، لہٰذا اسے خاص کیا جاتا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے، آپ نے اگر کسی دن یا رات کو عبادت کے لیے خاص کیا ہے تو اس کا حکم بھی دیا ہے اور اہتمام بھی فرمایا ہے، جیسے صحیح احادیث میں رمضان کی راتوں اور لیلۃ القدر کے بارے میں ہے کہ آپ نے قیام کیا اور اس کی فضیلت بیان کر کے لوگوں کو ترغیب بھی دلائی، لہٰذا اگر شعبان کی پندرھویں رات میں محافل جمانے، عبادت کرنے اور دوسرے افعال کرنے کی کوئی فضیلت ہوتی تو آپ اپنی امت کو ضرور مطلع فرماتے اور خود بھی اہتمام فرماتے کیونکہ آپ کا تو منصب ہی یہی تھا، آپ امت سے کوئی چیز چھپا نہیں سکتے تھے، ورنہ آپ { وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ}[2] کے مصداق ٹھہرتے، کہ آپ نے اپنی امت کو شریعت کے مکمل احکام نہیں پہنچائے۔ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ لیکن جو لوگ ان بدعات و خرافات پر عمل کرتے ہیں نعوذباللہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گویا خائن ثابت کرتے ہیں، لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس رات میں محافل اور عبادت کا کوئی ثبوت نہیں ملتا اور نہ صحابہ و تابعین ہی کا عمل ملتا ہے تو پھر اس رات کو خصوصی عبادت والی رات کس طرح سمجھا جاسکتا ہے؟ [1] صحیح مسلم، الصیام، باب کراھۃ إفراد یوم الجمعۃ بصوم…، حدیث: 1144۔ [2] المآئدۃ 67:5۔