کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 33
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ’أَجَلْ، لَقَدْ نَھَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃَ لِغَائِطٍ أَوْبَوْلٍ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْیَمِینِ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَۃِ أَحْجَارٍ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِیعٍ أَوْ بِعَظْمٍ‘ ’’ہاں، بلاشبہ آپ نے ہمیں منع فرمایا ہے کہ ہم پاخانہ پیشاب کرتے وقت اپنا رخ قبلے کی طرف کریں یا دائیں ہاتھ سے استنجا کریں یا تین ڈھیلوں سے کم کے ساتھ استنجا کریں یا لید یا ہڈی سے استنجا کریں۔‘‘[1] یعنی حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اس مشرک کی بات پر شرمندگی محسوس نہیں کی بلکہ بڑے فخر سے اسلام کی کاملیت کا اظہار و اعتراف فرمایا کیونکہ یہ کاملیت بلاشبہ اسلام کا امتیاز ہے، ایسا کامل دین، مکمل دستور حیات اور جامع نظامِ زندگی اسلام کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔ اسی لیے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے بجا طور پر فرمایا تھا: ’مَنِ ابْتَدَعَ فِي الإِْسْلَامِ بِدْعَۃً یَرَاھَا حَسَنَۃً، فَقَدْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا صلي اللّٰه عليه وسلم خَانَ الرِّسَالَۃَ، لِأَنَّ اللّٰہَ یَقُولُ: (الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ)فَمَالَمْ یَکُنْ یَوْمَئِذٍ دِینًا فَلَایَکُونُ الْیَوْمَ دِینًا‘ ’’جس نے اسلام میں (دین سمجھ کر) کوئی بدعت ایجاد کی اور اس کو اچھا سمجھا (اس کو بدعت حَسَنہ باور کیا اور کرایا) تو اس نے یقینا یہ خیال کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے رسالت کی ادائیگی میں خیانت کی، اس لیے کہ اللہ تو فرماتا ہے: ’’آج میں نے تم پر تمھارا دین مکمل کر دیا۔‘‘ چنانچہ جو کام اس (تکمیل دین کے) وقت [1] صحیح مسلم، الطھارۃ، باب الاستطابۃ، حدیث: 262۔