کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 329
رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ اخلاص گیارہ بار پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر حاجت پوری کردیتا ہے، اگر وہ لوح محفوظ میں بدبخت لکھا گیا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے مٹا کر اسے خوش نصیب لکھ دیتا ہے … اور اس کے آئندہ ایک سال کے گناہ نہیں لکھے جاتے۔‘‘[1] ’’الموضوعات‘‘ میں ابن الجوزی اس حدیث کے مختلف طرق ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: اس حدیث کے موضوع ہونے میں کوئی شک نہیں۔ یہ اور اس قسم کی دیگر احادیث جن میں شعبان کی پندرھویں رات کی عبادت کی فضیلت بیان کی گئی ہے بالاتفاق ضعیف اور من گھڑت ہیں۔ ائمۂ کرام، مثلاً:امام شوکانی، ابن الجوزی، ابن حبان، قرطبی اور سیوطی وغیرہم نے ان روایات کو ناقابل اعتبار قرار دیا ہے۔ تفصیلات کے لیے دیکھیے: الفوائد المجموعۃ، الموضوعات الکبریٰ، تفسیر القرطبي، اللآلي المصنوعۃ، وغیرہ۔ شب برات میں کیا کرنا چاہیے؟ اب سوال یہ ہے کہ شعبان کی پندرھویں رات کی فضیلت کے متعلق جس حدیث کو بعض محققین نے صحیح قرار دیا ہے کہ (اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات کو اپنی پوری مخلوق کی طرف (بنظر رحمت) دیکھتا ہے، پھر مشرک اور کینہ پرور کے سوا باقی ساری مخلوق کی بخشش کردیتا ہے۔) آیا اس روایت کی روشنی میں ہمیں خوشی کا یا خصوصی عبادت کا اہتمام کرنا چاہیے؟ لیکن کیا اس میں کسی محفل کے جمانے کا ذکر ہے یا کسی خاص عبادت، چراغاں یا [1] الموضوعات لابن الجوزي: 51,50/2۔