کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 325
کر میں باہر نکلی تو اچانک دیکھا کہ آپ بقیع قبرستان میں تھے، آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا: ’’کیا تمھیں اس بات کا اندیشہ تھا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم پر ظلم کریں گے؟‘‘ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہ شک ہوا تھا کہ شاید آپ کسی اور بیوی کے پاس چلے گئے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا: ’إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی یَنْزِلُ لَیْلَۃَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا، فَیَغْفِرُ لِأَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ کَلْبٍ‘ ’’بے شک اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات کو آسمان دنیا پر آتا ہے، پھر اتنے لوگوں کی مغفرت کرتا ہے جتنے بنو کلب کی بکریوں کے بال ہیں۔‘‘[1] دیگر ائمہ کے علاوہ خود امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے اوراس روایت کی تضعیف امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے بھی نقل کی ہے۔ یہ روایت نقل کرنے کے بعد اس کے ساتھ ہی وہ لکھتے ہیں کہ میں نے اپنے استاد محمد بن اسماعیل بخاری سے سنا، وہ فرماتے تھے: یہ روایت ضعیف ہے۔ اس روایت کو حجاج بن ارطاۃ نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کیا، حالانکہ حجاج کا یحییٰ سے سماع ثابت نہیں بلکہ زندگی میں ان سے ملاقات بھی نہیں ہوئی۔ پھر یحییٰ اس روایت کو عروہ سے نقل کر رہے ہیں جبکہ یحییٰ کا سماع عروہ سے ثابت نہیں۔ اس طرح یہ روایت دو جگہ سے منقطع ہے۔ دو جگہ سے منقطع روایت محدثین کی اصطلاح میں شدید درجہ کی ضعیف روایت ہے۔[2] [1] جامع الترمذي، الصوم، باب ماجاء في لیلۃ النصف من شعبان، حدیث: 739، وسنن ابن ماجہ، الصلوات، باب ماجاء في لیلۃ النصف مِن شعبان، حدیث: 1389، ضعفہ الألباني۔ [2] مستزاد یہ کہ حجاج اور یحییٰ دونوں مدلس راوی ہیں۔ امام حاکم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مرفوع روایت کو یحییٰ بن ابی کثیر کی مرسل روایت کی بنا پر منکر اور غیر محفوظ قرار دیا ہے۔