کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 324
لوگوں کو چھوڑ دیتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے دلوں کو کینہ سے پاک کرلیں۔‘‘[1] یہی وہ حدیث ہے جو شعبان کی پندرھویں رات کی فضیلت میں بقول شیخ البانی مسند ہے، اس کے علاوہ جتنی احادیث عام طور پر بیان کی جاتی ہیں اور جنھیں اخبارات اور محفلوں کی زینت بنایا جاتا ہے وہ سب کی سب سنداً انتہائی کمزور بلکہ من گھڑت ہیں۔ اور صحیح الجامع الصغیر کی حدیث سے بھی صرف اس رات کی فضیلت ثابت ہوتی ہے لیکن اس میں بھی اس رات کو عبادت کرنے کی کوئی ترغیب یا فضیلت نہیں ہے اور کسی فضیلت سے اس رات کا خصوصی عبادت والی رات ہونا ثابت نہیں ہوتا، اس کے لیے الگ نصّ کی ضرورت ہے جو موجود نہیں ہے۔ علاوہ ازیں شیخ البانی کے علاوہ دوسرے محققین کے نزدیک یہ روایت بھی ضعیف ہے۔ ضعیف اور موضوع روایات شب برا ت کی نسبت سے جو کمزور اور من گھڑت حدیثیں عام طور پر بیان کی جاتی ہیں، ان میں سے چند درج ذیل ہیں: (1) ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’شَعْبَانُ شَھْرِي، وَرَمَضَانُ شَھْرُ اللّٰہِ‘ یہ روایت موضوع ہے۔[2] (2) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر پر موجود نہ پا [1] المعجم الکبیر للطبرانی: 109,108/20، حدیث: 215۔ [2] حافظ سخاوی وغیرہ نے اسے مسند الفردوس کی طرف منسوب کیا ہے۔ دیکھیے: المقاصد الحسنۃ، حدیث: 595۔ محدث البانی نے اس کا حوالہ یوں (234,233/2) ذکر کیا ہے۔ مگر تلاش کے بعد مسند الفردوس میں یہ روایت مل نہیں سکی۔ واللّٰه أعلم۔ اس کی سند حسن بن یحییٰ الخشنی کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔ محدث البانی کا بھی یہی فیصلہ ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: السلسلۃ الضعیفۃ: 222/8، حدیث: 3746۔