کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 323
ہیں کہ اس رات کی کچھ نہ کچھ اصل ہے، بنا بریں اس رات کی کچھ نہ کچھ فضیلت ضرور ہے۔اور دوسرے علماء کی رائے میں ضعیف روایات قابل عمل نہیں، چاہے وہ تعداد میں کتنی ہی ہوں۔ان علماء کے نزدیک اس رات کی کوئی خاص اصل نہیں۔ چنانچہ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ اور شعیب ارنائووط رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے کثرت طرق کی بنا پر اس ایک روایت کو صحیح قرار دیا ہے جبکہ باقی سب روایات ضعیف یا موضوع ہیں، وہ ارشاد گرامی درج ذیل ہے: ’یَطَّلِعُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی إِلٰی خَلْقِہٖ لَیْلَۃَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَیَغْفِرُ لِجَمِیعِ خَلْقِہٖ، إِلَّا لِمُشْرِکٍ أَوْمُشَاحِنٍ‘ ’’اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات کو اپنی پوری مخلوق کی طرف (نظر رحمت سے) دیکھتا ہے، پھر مشرک اور کینہ پرور کے سوا باقی ساری مخلوق کی بخشش کردیتا ہے۔‘‘[1] جبکہ ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کے طریق سے اسی روایت کے الفاظ درج ذیل ہیں: ’إِنَّ اللّٰہَ یَطَّلِعُ عَلٰی عِبَادِہٖ فِي لَیْلَۃِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَیَغْفِرُ لِلْمُؤْمِنِینَ وَیُمْلِي لِلْکَافِرِینَ، وَیَدَعُ أَھْلَ الْحِقْدِ بِحِقْدِہِمْ حَتّٰی یَدَعُوہُ‘ ’’بے شک اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات کو اپنے بندوں پر رحمت کی نظر ڈالتا ہے، پھر مومنوں کو معاف کر دیتا اور کافروں کو ڈھیل دے دیتا ہے۔ اور کینہ پرور [1] صحیح ابن حبان، حدیث: 1980، وشعب الإیمان للبیھقي: 288/2، والسلسلۃ الصحیحۃ، حدیث: 1144۔