کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 322
پوچھا: ’ھَلْ صُمْتَ مِنْ سَرَرِ ھٰذَا الشَّھْرِ شَیْئًا؟‘ ’’کیا تو نے اس (شعبان کے) مہینے کے آخری دنوں کے کچھ روزے رکھے ہیں؟‘‘ اس نے کہا: نہیں توآپ نے اس سے فرمایا: ’’رمضان کے بعد تو اس کے بدلے میں ایک یا دو روزے رکھ لینا۔‘‘[1] یہ شخص بھی مہینے کے آخر میں روزے رکھنے کا عادی تھا یا اس نے نذر کے روزے رکھنے تھے لیکن اس نے اس اندیشے کے پیش نظر نہیں رکھے کہ کہیں میرا یہ عمل استقبال رمضان کا مظہر نہ بن جائے جس سے روکا گیا ہے۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرما دی کہ یہ ممانعت ان لوگوں کے لیے ہے جو عادی نہ ہوں یا جن کی طاقت اور توانائی میں کمی آنے کا خطرہ ہو یا محض شک کی وجہ سے روزہ رکھتے ہوں مبادا رمضان شروع ہوگیا ہو۔ ایسے تمام لوگوں کے لیے شعبان کے آخر میں روزے رکھنے ممنوع ہیں تاکہ رمضان کے روزے رکھے جا سکیں۔ ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے ان روزوں کا جواز ہے۔ ملحوظہ: سَرَر کا لفظ مہینے کے آخری ایام کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ اِسْتِسْرار (چھپ جانا) سے ہے۔ مہینے کے آخری دنوں میں چونکہ چاند چھپ جاتا ہے، اس لیے مہینے کے آخری دنوں کو سَرَر سے تعبیر کر لیا جاتا ہے۔ شب برات، یعنی شعبان کی پندرھویں رات شعبان کی پندرھویں رات کی بابت متعدد روایات آتی ہیں، جن میں اس رات کی بعض فضیلتوں کاذکر ہے لیکن یہ روایات، ایک آدھ روایت کے علاوہ، سب ضعیف ہیں۔ لیکن چونکہ یہ کثرتِ طُرق سے مروی ہیں، اس لیے بعض علماء اس بات کے قائل [1] صحیح مسلم، الصیام، باب صوم سرر شعبان، حدیث: 1161۔