کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 321
معمول تھا، تاہم آپ نے اپنی امت کے لوگوں کو نصف شعبان کے بعد روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے: إِذَا انْتَصَفَ شَعْبَانُ فَلَا تَصُومُوا[1] اس ممانعت سے مقصود یہ ہے کہ طاقت، توانائی بحال رہے تاکہ رمضان کے فرضی روزے رکھنے میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔ اسی طرح آپ نے رمضان سے ایک دو دن پہلے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے تاکہ استقبالِ رمضان کے نام پر لوگ جشن کی سی کیفیت نہ بنالیں، آپ نے فرمایا: ’لَا تَقَدَّمُوا صَوْمَ رَمَضَانَ بِیَوْمٍ وَّلَا یَوْمَیْنِ إِلَّا أَنْ یَّکُونَ صَوْمٌ یَصُومُہٗ رَجُلٌ فَلْیَصُمْ ذٰلِکَ الصَّوْمَ‘ ’’رمضان سے ایک دو دن پہلے روزے مت رکھو، مگر جو شخص کسی دن کا روزہ رکھتا رہا ہو تو وہ رکھ لے۔‘‘[2] یعنی کسی کا معمول ہے کہ وہ ہر پیر اور جمعرات کو روزہ رکھتا ہے یا صومِ داؤدی رکھتا ہے تو یہ روزے اگر رمضان سے دو تین دن قبل واقع ہوں، تو وہ یہ روزے رکھ سکتا ہے کیونکہ اس سے مقصود استقبالِ رمضان نہیں ہے بلکہ روز مرہ کے معمولات کو پورا کرنا ہے، اس لیے یہ ممانعت کے حکم میں نہیں آئیں گے۔ سَرَرِ شعبان کا روزہ اور اس کا مطلب یہی مطلب اس حدیث کا ہے جس میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے [1] سنن أبي داود، الصیام، باب في کراہیۃ ذلک، حدیث: 2337۔ [2] سنن أبي داود، الصیام، باب فیمن یَصِلُ شعبان برمضان، حدیث: 2335۔