کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 320
فجر کے وقت) ہوتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں سے جو فجر و عصر کی نماز میں حاضر رہتے ہیں، جب آسمان پر جاتے ہیں تو پوچھتا ہے : ’کَیْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِي؟ فَیَقُولُونَ: تَرَکْنَاہُمْ وَہُمْ یُصَلُّونَ، وَأَتَیْنَاہُمْ وَہُمْ یُصَلُّونَ‘ ’’تم میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑ کر آئے ہو؟ فرشتے کہتے ہیں: یا اللہ! جب ہم انھیں چھوڑ کر آرہے تھے، تب بھی وہ نماز میں مشغول تھے اورجب ہم ان کے پاس پہنچے، تب بھی نماز پڑھ رہے تھے۔‘‘[1] دوسری پیشی ہفتے میں دو دن کی ہے، یعنی ہر پِیر اور جمعرات کو اللہ کی بارگاہ میں اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَالْخَمِیسِ فَأُحِبُّ أَنْ یُّعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ‘[2] اور تیسری پیشی، جو گویا سالانہ پیشی ہے، ماہِ شعبان میں ہوتی ہے جیسا کہ مذکور الصدر حدیث سے معلوم ہوا۔ اور جس کی وجہ ہی سے نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس ماہ میں کثرت سے روزے رکھتے تھے۔ کثرت سے روزے رکھنے میں احتیاط کی ضرورت گزشتہ تفصیل سے واضح ہے کہ شعبان میں نفلی روزے کثرت سے رکھنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا [1] صحیح البخاري، مواقیت الصلاۃ، باب فضل صلاۃ العصر، حدیث: 555، وصحیح مسلم، المساجد، باب فضل صلاتي الصبح والعصر…، حدیث: 632۔ [2] جامع الترمذي، الصوم، باب ماجاء في صوم…، حدیث: 747۔