کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 319
’’میں نے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا، بلکہ آپ سارے شعبان کے روزے رکھتے تھے۔‘‘[1] شعبان میں کثرت سے روزے رکھنے کی حکمت حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ایک روز سوال کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ماہ شعبان میں جس قدر (نفلی) روزے رکھتے ہیں، کسی اور مہینے میں اتنے روزے نہیں رکھتے؟ (یہ کیا بات ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ذٰلِکَ شَہْرٌ یَغْفُلُ النَّاسُ عَنْہُ بَیْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ، وَہُوَ شَہْرٌ تُرْفَعُ فِیہِ الْأَعْمَالُ إِلٰی رَبِّ الْعَالَمِینَ فَأُحِبُّ أَنْ یُّرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ‘ ’’یہ مہینہ رجب اور رمضان کے درمیان ہے، لوگ اس سے غفلت برتتے ہیں۔ اس مہینے میں(لوگوں کے) عمل رب العالمین کے حضور پیش کیے جاتے ہیں اور میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرے عمل جب اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں تو اس وقت میں روزے سے ہوں (اس لیے شعبان میں روزے کثرت سے رکھتا ہوں۔)‘‘[2] اس حدیث سے شعبان میں نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بکثرت روزہ رکھنے کی وجہ یہ معلوم ہوئی کہ اس مہینے میں بالخصوص اعمال اللہ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں۔ احادیث کے تَتَبُّع سے معلوم ہوتا ہے کہ عملوں کی ایک پیشی تو روزانہ صبح و شام (نماز عصر اور نمازِ [1] جامع الترمذي، الصوم، باب ماجاء في وصال شعبان برمضان، حدیث: 736۔ [2] سنن النسائي، الصیام، باب صوم النبي صلي اللّٰه عليه وسلم بأبي ھو وَ أمي…، حدیث: 2359۔