کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 314
نے فرمایا: سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی معمول تھا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو شخص رجب کی ستائیسویں کو بارہ رکعت نفل کی نیت اس ترکیب سے پڑھے کہ سورۂ فاتحہ کے بعد تین مرتبہ سورۃ القدر اور بارہ دفعہ سورۂ اخلاص اوراس کے بعد نوافل سے فارغ ہوکر ایک بار درود شریف اور تین مرتبہ ’سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّنَا وَرَبُّ الْمَلاَئِکَۃِ وَالرُّوحِ‘ ایک سو بار درود شریف اور سو بار ’أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّي مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَخَطِیئَۃٍ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ‘ اور سو بار تسبیح، یعنی تیسرا کلمہ شریف پڑھے اوراپنے لیے، اپنے ماں باپ کے لیے اور تمام مسلمان مردوزن کے لیے دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے پانچ نعمتیں عطا فرماتا ہے، یعنی مخلوق کا عمر بھر محتاج نہ ہوگا، ایمان پر خاتمہ ہوگا، اس کی قبر کشادہ کردی جائے گی، جنت کی ہوائیں اسے ملتی رہیں گی، اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوگا۔‘‘[1] دوبارہ وضاحت یہ بات اچھی طرح ذہن نشین رہے کہ مذکورہ چاروں مضامین روزنامہ اخبارات سے نقل کیے گئے جن کے حوالے بھی ساتھ دے دیے گئے ہیں۔ ان کو نقل کرنے سے مقصود اس بات کی وضاحت ہے کہ ایک مذہبی طبقہ من گھڑت فضائل بیان کرنے میں بڑا دلیر ہے حالانکہ یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ اس پر جہنم تک کی وعید بیان کی گئی ہے۔ اسی طرح اخبارات کے مدیران و مالکان بھی دین سے بے خبر عوام کو خوش کرنے اور دنیا کا مال کمانے کے لیے ان بے بنیاد مضامین کو شائع کر دیتے ہیں۔ مزید ستم ظریفی یہ ہے کہ وضاحتی مضمون شائع کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ نتیجہ اس ملی بھگت کا یہ نکل رہا [1] روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ لاہور، 10 اگست 2007ء۔