کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 307
رجب المرجب کی (من گھڑت) فضیلت کے مضمون کا ایک ایک حرف اور حدیث رسول کے نام سے جتنی حدیثیں اور جو فضیلتیں اس میں بیان کی گئی ہیں، سب من گھڑت ہیں۔ نَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ۔ (2) ایک اور مضمون اور اس کی حقیقت اسی طرح کا ایک اور مضمون ’’شب معراج کے فضائل‘‘ کے عنوان سے روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ لاہور (25جولائی2008ء) میں چھپا ہے،مضمون نگار ہیں، مولانا محمد الیاس عطار قادری، یہ مضمون بھی ملاحظہ فرمائیں، اس میں بعض حوالے درج ہیں لیکن یہ حوالے کیسے ہیں اوران حوالوں کی رو سے بیان کردہ فضائل کی کیا حیثیت ہے؟ اس پر ہم بعد میں روشنی ڈالیں گے، پہلے آپ یہ ’’فضائل‘‘ پڑھ لیں: امام اہلسنت مجدد دین و ملت، پروانۂ شمع رسالت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ فوائد الفوائد میں حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ستائیس رجب کو مجھے نبوت عطا ہوئی جو اس دن کا روزہ رکھے اور افطار کے وقت دعا کرے دس برس کے گناہوں کا کفارہ ہو۔‘‘ فتاوی رضویہ، ص: 658مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی۔[1] حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو رجب کی ستائیسویں کا روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے ساٹھ مہینوں (پانچ سال) کے روزوں کا ثواب لکھے گا اور یہ وہ [1] فوائد ہناد النسفي میں یہ حدیث موجود ہے۔ حافظ ابن حجر نے اسی کتاب سے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ اور فرمایا ہے کہ اس کی سند منکر (ضعیف) ہے۔ تبیین العجب لابن حجر، ص: 119۔ حافظ ابن عراق نے حافظ ابن حجر کی موافقت کی ہے۔ تنزیہ الشریعۃ لابن عراق: 116/2، حدیث: 41۔