کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 306
سمندر کی جھاگ اور اس کی ریت کے ذرات کے، پہاڑوں کے وزن کے، بارش کے قطروں کے اور درختوں کے پتوں کے برابر کیوں نہ ہوں اور قیامت کے دن اس کی شفاعت اس کے خاندان کے ساٹھ آدمیوں کے حق میں قبول کرلی جائے گی اور قبر کی پہلی ہی شب میں اس کے پاس اس نماز کا ثواب کھلے ہوئے چہرے کے اور جاری زبان کے ساتھ آئے گا۔‘‘[1] تاجدارِ انبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رجب میں ایک دن اور ایک رات ایسی آتی ہے کہ اگر کوئی اس میں روزہ رکھ لے اوراس رات عبادت کرے تو اسے سو سال کے روزوں کا اور سو سال کی راتوں کا ثواب ملتا ہے۔ یہ دن رات رجب کی27ویں تاریخ ہے۔ اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث فرمائے گئے۔[2] ماہ رجب کی عبادات قرآن و حدیث کی روشنی میں ماہ رجب کی فضیلت بیان کی گئی۔ اس فضیلت کے پیش نظر ماہ رجب کی عبادات حسب ذیل ہیں: ٭ 27رجب کو چونکہ معراج شریف ہے، لہٰذا اس دن روزہ رکھا جائے۔ ٭ اس ماہ میں تین روزے بروز جمعرات، جمعہ اور ہفتہ ضرور رکھے جائیں کیونکہ ان تین روزوں کا ثواب900سال کی عبادت کا ہے۔ ٭ اس ماہ میں زکاۃ دی جائے۔ ٭ کسی کا قرض ادا کرنا ہوتو اس ماہ میں وہ قرض ادا کیاجائے۔ (روز نامہ ’’جنگ‘‘ لاہور،19ستمبر2003ء) [1] الموضوعات لابن الجوزي: 125,124/2۔ یہ روایت موضوع ہے۔ ابن جہضم کذاب نے اسے گھڑا ہے۔ حافظ ابن الجوزی نے بھی اسے خود ساختہ قرار دیا ہے۔ [2] لم أجدہ ۔