کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 303
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پانچ راتوں میں دعا رد نہیں ہوتی، رجب کی پہلی رات، شعبان کی پندرھویں رات، جمعہ کی رات، عید الفطر کی رات اور قربانی کی رات۔‘‘[1] رجب کے مہینے میں زکاۃ کی فضیلت حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تصنیف غنیتہ الطالبین میں فرماتے ہیں کہ ایک بار رجب کا ہلال دیکھ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن منبر پر چڑھ کر فرمایا: ’’کان کھول کر سن لو، یہ اللہ کا مہینہ اور زکاۃ کا مہینہ ہے۔ اگر کسی پر قرض ہوتو اپنا قرض ادا کردے اور جو کچھ مال باقی ہے، اس کی زکاۃ ادا کردے۔‘‘[2] رجب کے روزوں کی فضیلت اگر کوئی رجب میں ایک دن کاروزہ رکھے اوراس کی نیت اللہ تعالیٰ سے ثواب کی ہو اور خلوص سے اللہ کی رضا کا طلب گار ہو تو اس کا ایک دن کا روزہ اللہ تعالیٰ کے غصے کو بجھا دے گا اور آگ کا ایک دروازہ بند کردے گا اور اگر اسے تمام زمین بھر کا سونا دیا جائے تواس ایک روزے کا پورا ثواب نہ مل سکے گا اور دنیا کی کسی چیز کی قیمت سے اس [1] تاریخ دمشق: 408/10، ابراہیم بن ابی یحییٰ اور بندار بن عمر دونوں کذاب راوی ہیں، لہٰذا یہ روایت من گھڑت ہے۔ محدث البانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے موضوع قرار دیا ہے۔ دیکھیے: السلسلۃ الضعیفۃ: 649/3، حدیث: 1452۔ [2] غنیۃ الطالبین للشیخ عبد القادر جیلاني: 175/1۔ مؤطا امام مالک میں یہ روایت بغیر کسی ماہ کی تعیین کے موجود ہے۔ دیکھیے: المؤطا: 243/2، حدیث: 645۔ اس کی سند موقوفاً صحیح ہے۔ کتاب الأموال لابن زنجویہ، ص: 450، اثر: 1372 میں ابراہیم بن سعد راوی حدیث کا بیان ہے کہ حضرت عثمان نے یہ فرمان رمضان المبارک میں ارشاد فرمایا ہے، لہٰذا غنیۃ الطالبین میں ماہِ رجب کی تصریح درست معلوم نہیں ہوتی۔