کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 302
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے ستائیس رجب کو روزہ رکھا، اس کے لیے ساٹھ ماہ کے روزوں کا ثواب لکھا جائے گا۔‘‘[1] نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یاد رکھو! رجب اللہ کا مہینہ ہے جس نے رجب میں ایک دن روزہ رکھا، ایمان کے ساتھ اور محاسبہ کرتے ہوئے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضوان اکبر (سب سے بڑی رضامندی) لازم ہوگئی۔‘‘[2] 900برس عبادت کا ثواب رجب کی پہلی جمعرات کا تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو ہر فرشتہ رجب کے روزے رکھنے والے کے لیے دعائے مغفرت کرتا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے ماہ حرام میں تین روزے رکھے، اس کے لیے 900 برس کی عبادت کا ثواب لکھ دیا گیا۔‘‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتو میرے کان بہرے ہوجائیں۔[3] [1] فضائل شہر رجب للإمام أبي محمد الحسن الخلال، حدیث: 18، و تبیین العجب لابن حجر، 120,119، مطبوع إدارۃ العلوم الاثریۃ، منٹگمری بازار، فیصل آباد۔ یہ اثر حضرت ابوہریرہ کا قول ہے۔ مرفوع حدیث نہیں۔ امام ابن الجوزی اور مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ نے اس اثر کو ضعیف قرار دیا ہے۔ ملاحظہ ہو: تحقیق فضائل شہر رجب، ص: 59۔ [2] تبیین العجب لابن حجر، ص: 94۔ مصنف فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے، ابوالبرکات السقطي نے اسے گھڑا ہے۔ [3] العلل المتناہیۃ لابن الجوزي: 64,63/2، حدیث: 911۔ اس کی سند بھی ضعیف ہے کیونکہ مسلمہ بن راشد مضطرب الحدیث ہے اور راشد ابو محمد مجہول ہے۔ امام ابن الجوزی کے علاوہ بھی متعدد محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، نیز حدیث کے الفاظ میں بھی اختلاف ہے کہ 900برس کے گناہ معاف ہوتے ہیں یا 700 برس یا اس سے کم کے۔ اس تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: تحقیق فضائل شہر رجب للخلال از مولانا ارشاد الحق أثري، ص: 54-52۔