کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 301
کے صحرا دریائے رحمت و مغفرت کے تیز بہاؤ سے سیراب ہوجاتے ہیں۔ عبادت گزار انوارِ قبولیت سے فیض پاتے ہیں۔ ٭ الاصم (سب سے زیادہ بہرہ) زمانۂ قبل از اسلام میں اس ماہ میں جنگ و جدل کی آواز قطعاً سنائی نہیں دیتی تھی۔ جنگ اس ماہ میں حرام ہے۔ ٭ رجب جنت کی ایک نہر کا نام ہے جو اس ماہ کے روزے داروں کو نصیب ہوگی۔ ٭ مطہر(پاک کرنے والا) رجب کو پاک کرنے والا اس لیے کہتے ہیں کہ یہ روزے داروں کے گناہوں اور تمام برائیوں کو پاک و صاف کردیتا ہے۔ اس ماہ میں دعائیں خوب قبول ہوتی ہیں۔ 27 رجب میں شب معراج کا واقعہ ماہ رجب کی فضیلت اس لحاظ سے بھی ہے کہ پہلی بار حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے تھے۔ اس ماہ تاریخ اسلام میں شب معراج کا واقعہ پیش آیا جو بہت اہمیت اور عظمت کا حامل ہے۔ یہ واقعہ27رجب کو پیش آیا۔اس ماہ میں تکمیل عبودیت ہوئی تھی۔ یہ معجزہ ایک ایسا اعزاز ہے جو کسی اورنبی کو نہیں ملا۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ اپنی شہرئہ آفاق تصنیف مکاشفۃ القلوب میں رقمطراز ہیں: نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’رجب اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے، شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے۔‘‘[1] [1] مکاشفۃ القلوب، ص: 680-678، یہ روایت موضوع ہے۔ ابن جہضم کذاب نے اسے وضع کیا ہے۔ دیکھیے: الموضوعات لابن الجوزي: 125/2۔ اس علت کو حنفی عالم دین ملا علی قاری نے بھی تسلیم کیا ہے۔ دیکھیے: الموضوعات الکبریٰ للقاري: 460,459۔