کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 297
واقعہ صرف اتنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مقامِ بلند اور اعزاز برتر سے سرفراز کرنے کے لیے بیت المقدس کے بعد آسمانوں کی سیر کرائی گئی، بعض عجائب قدرت کا مشاہدہ کرایا گیا جس میں آپ ایک ایک آسمان سے ہوتے ہوئے سدرۃ المنتہیٰ تک تشریف لے گئے، اس سے آگے آپ کے جانے کا ثبوت نہیں، چہ جائیکہ عرش معلی پر۔ (معاذ اللّٰہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ سے بغل گیر ہونا، رازو نیاز کی باتیں کرنا اورا سی انداز کی دوسری باتیں، ایسی سب باتیں بالکل بے اصل ہیں، چنانچہ ایک حنفی عالم مولانا عبدالحی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ’وُصُولُہٗ إِلٰی ذَرْوَۃِ الْعَرْشِ لَمْ یَثْبُتْ فِي خَبَرٍ صَحِیحٍ وَلَا حَسَنٍ وَلَا ثَابِتٌ أَصْلًا وَإِنَّمَا صَحَّ فِي الْأَخْبَارِ انْتِہَائُہٗ، إِلٰی سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی فَحَسْبُ‘ ’’عرش کی بلندی تک آپ کا پہنچنا کسی حدیث صحیح و حسن سے ثابت نہیں۔ صرف سدرۃ المنتہیٰ تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسائی ثابت ہے، اس سے آگے نہیں۔‘‘ اسی طرح بعض اور بے اصل باتیں لکھ کر وہ کہتے ہیں کہ ان کا کوئی ثبوت نہیں: ’وَمَا لَمْ یَثْبُتْ لَا یَجُوزُ لَنَا أَنْ نَّجْتَرِیَٔ عَلٰی ذِکْرِہٖ بَلْ یَجِبُ عَلَیْنَا أَنْ لَّا نَذْکُرَہٗ (غَایَۃُ الْمَقَالِ فِیمَا یَتَعَلَّقُ بِالنِّعَالِ)‘ ’’اور جن چیزوں کا ثبوت نہ ہو، انھیں بیان کرنے کی جسارت نہیں کرنی چاہیے بلکہ ان کے ذکر سے احتراز ضروری ہے۔‘‘[1] امام ابن قیم کہتے ہیں کہ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: مسلمانوں میں سے کسی کے [1] مجموعۃ ثمانیۃ رسائل، ص: 150، طبع لکھنؤ۔