کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 294
اس نماز کی ان صوفیاء و مشائخ نے بہت سی خانہ ساز فضیلتیں بیان کی ہیں لیکن شریعت میں ان کی کوئی اصل نہیں، اس لیے اس پر عمل سراسر گناہ اور حرام ہے۔ ’’صلاۃ الرغائب‘‘ کی فضیلت میں بیان کی جانے والی روایت موضوع اور من گھڑت ہے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: صلاۃ الرغائب کی کوئی اصل نہیں بلکہ یہ ایک نئی چیز، یعنی بدعت ہے، لہٰذا یہ نماز نہ انفرادی جائز ہے اور نہ جماعت کے ساتھ کیونکہ صحیح مسلم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے جمعے کی رات کو قیام سے اور دن کو روزے سے خاص کرنے سے منع فرمایا ہے۔[1] مزید فرمایاکہ یہ نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی نہ صحابہ، تابعین اور ائمۂ مسلمین نے پڑھی اور نہ اس کی ترغیب دلائی۔[2] امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی صلاۃ الرغائب اور ’’صلاۃ نصف شعبان‘‘ پندرھویں شعبان کی نماز کے بارے میں فرمایا: انھیں نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا نہ صحابہ اور ائمۂ اربعہ میں سے کسی نے اسے پڑھا ہے نہ انھوں نے اس کی کوئی فضیلت بتائی اور نہ ان کے متبعین نے اسے پڑھا ہے، لہٰذا یہ بہت ہی بری بدعت ہے، اس سے بچنا نہایت ضروری ہے، ملخصًا۔[3] اور امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: رجب کے پہلے جمعے کی رات ’’صلاۃ الرغائب‘‘ کے متعلق جتنی احادیث بیان کی جاتی ہیں سب جھوٹ ہیں۔ دیکھیے (المنار المنیف، ص: 95، حدیث: 167) [1] صحیح مسلم، الصیام، باب کراھۃ إفراد یوم الجمعۃ…، حدیث: 1144۔ [2] مجموع الفتاوٰی: 135-132/23۔ [3] فتاوی النووي، ص: 40۔