کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 293
2۔صلاۃ الرغائب اس مہینے کی ایک اور رسم، جو مشہور تو کافی ہے لیکن اس پر عمل غالباً زیادہ تر صوفیاء اور مشائخ کے حلقوں ہی میں کیا جاتا ہے، صلاۃ الرغائب ہے۔ یہ رجب کے پہلے جمعے کی رات کو ہوتی ہے جسے لیلۃ الرغائب کہا جاتا ہے۔ یہ بدعت کافی پرانی معلوم ہوتی ہے۔ کئی اکابر علماء نے اس کے رد میں خاص کتابیں لکھی ہیں۔ بعض تصوف زدہ اور خانقاہی مزاج رکھنے والے بزرگ بھی اس کے ’’استحسان‘‘ کے وہم میں مبتلا رہے ہیں، جیسے امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ ، شیخ عبدالحق دہلوی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ ہیں۔ اس کا ایک خاص طریقہ بھی ذکر کیا گیا ہے : ’’رجب کی پہلی جمعرات دن کو روزہ رکھے، پھر جمعہ کی رات، مغرب و عشاء کے درمیان بارہ رکعتیں پڑھے، ہردو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دے، ہر رکعت میں سورۃ القدر 3مرتبہ، سورۃ الاخلاص12مرتبہ پڑھے۔ نماز سے فارغ ہوکر یہ درود پڑھے: ’اَللّٰھُمَّ! صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَسَلِّمْ‘ 70 دفعہ، بعدمیں سجدہ کرے جس میں70دفعہ ’سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِکَۃِ وَالرُّوح‘ کہے، سجدے سے سر اٹھا کر 70دفعہ یہ دعا پڑھے: ’رَبِّ! اغْفِرْ وَارْحَمْ وَتَجَاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْأَعْظَمُ۔ أَوْ أَنْتَ الْأَعَزُّ الأَْکْرَمُ‘ ’’پھر دوسرا سجدہ کرے اور اس میں وہی دعا پڑھے جو پہلے سجدے میں پڑھی تھی، پھر جو چاہے اللہ سے اپنی ضرورت طلب کرے، اس کی ضرورت پوری ہوگی۔‘‘[1] [1] ملاحظہ ہو إحیاء العلوم: 302/1، وغنیۃ الطالبین، ص: 433، طبع: 1309ھ ۔