کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 291
جواب2: امور مذکورۃ السوال کی شرعاً کوئی اصل نہیں۔ یہ امور لغویات میں سے ہیں۔ ایک مسلمان کی شان اس سے اعلیٰ و ارفع ہے کہ وہ اس قسم کے توہمات میں مبتلا ہو۔ جناب جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کی طرف کثرت سے جھوٹی باتیں منسوب کر دی گئی ہیں، بائیسویں رجب کے متعلق کوئی خاص شرعی حکم نہیں ہے۔ اس تاریخ کو کوئی خاص عمل کرنے کی ہدایت نہیں کی گئی ہے لوگوں نے اپنی طرف سے بہت سی باتیں گھڑ لی ہیں۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ حتی الامکان اس قسم کی لغویات سے مسلمانوں کو باز رکھے اور بآسانی و نرمی ان فضولیات کی لغویت ذہن نشین کرائے۔ اس قسم کے طریقوں سے مرادیں حاصل کرنا درست نہیں ہے۔ مرادیں حاصل ہوجانا ان طریقوں کی صحت کی دلیل نہیں۔ مشرکین بتوں کے ذریعے سے بھی مرادیں مانگتے ہیں۔ بہرحال ان امور میں اپنے روپیہ کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ واللہ اعلم۔(ملخص)[1] تائیدات ٭ محمد عنایت اللہ عفی عنہ، رجب 1346ھ۔فرنگی محل لکھنؤ۔ ٭ محمد ایوب غفرلہ فرنگی محل لکھنؤ۔ ٭ ابو القاسم محمد عتیق صانہ سبحانہ عمالا یلیق، بن حضرت مولانا المَعی العلام الفرنجی محل لکھنوی 5رجب 1346ھ۔ ٭ الجواب صحیح والرأی نجیح۔ ابو طاہر احمد البہاری الرسول فوری کان اللہ لہٗ۔مدرس اول مدرسہ عالیہ قدیمہ بروز شنبہ،9 رجب المرجب 1346ھ۔ ٭ الجواب صحیح۔ حکیم عبدالستار خاں مدرس مدرسہ عالیہ قدیمہ بقلم خود۔ ٭ صحّ الجواب واللہ اعلم بالصواب، حررہ عبداللہ۔ [1] کتبہ محمد شفیع حجۃ اللّٰہ الأنصاري، فرنگی محل لکھنؤ۔